یہ وفائیں ساری دھوکے پھر یہ دھوکے بھی کہاں

احمد ہمدانی

یہ وفائیں ساری دھوکے پھر یہ دھوکے بھی کہاں

احمد ہمدانی

MORE BY احمد ہمدانی

    یہ وفائیں ساری دھوکے پھر یہ دھوکے بھی کہاں

    چند دن کی بات ہے پھر لوگ ہم سے بھی کہاں

    تم کو آنا تھا نہ آئے وقت لیکن کٹ گیا

    مضمحل ہوتے ہو کیوں ہم رات روئے بھی کہاں

    پیڑ یہ سوکھے ہوئے کچھ یہ زمیں تپتی ہوئی

    چلتے چلتے آج ٹھہرے ہم تو ٹھہرے بھی کہاں

    آج تو وہ دیر تک بیٹھے رہے خاموش سے

    رفتہ رفتہ بن کہے حالات پہنچے بھی کہاں

    چند یادیں چند آنسو چند شکوے اور عمر

    عشق تو کیا تھا مگر اب یہ سلیقے بھی کہاں

    دل لہو ہوتا ہے یارو بات یہ آساں نہیں

    لحظہ لحظہ روتے گزری اور روئے بھی کہاں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    احمد ہمدانی

    احمد ہمدانی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY