یہ زندگی نئے منظر دکھا رہی ہے مجھے

رخسار ناظم آبادی

یہ زندگی نئے منظر دکھا رہی ہے مجھے

رخسار ناظم آبادی

MORE BYرخسار ناظم آبادی

    یہ زندگی نئے منظر دکھا رہی ہے مجھے

    خزاں ہے آخری موسم بتا رہی ہے مجھے

    ہنسا رہی ہے کبھی یہ رلا رہی ہے مجھے

    غزل مری ہی کہانی سنا رہی ہے مجھے

    وہ ایک شے جو کہ سینے میں ہے کہیں موجود

    کسی کے حکم پہ پل پل چلا رہی ہے مجھے

    یہ اتفاق نہیں ہیں کوئی دعا ہے جو

    یوں حادثوں سے مسلسل بچا رہی ہے مجھے

    تو بزدلی نہ سمجھ یہ ہی تو شرافت ہے

    مرے لہو کی نفاست جھکا رہی ہے مجھے

    جو ایک لہر بھنور کے تھی آس پاس کہیں

    وہ دھیرے دھیرے کنارے لگا رہی ہے مجھے

    بغیر اس کے تھی ممکن کہاں رہائی مری

    یہ موت آ کے بلا سے چھڑا رہی ہے مجھے

    نئے لباس میں لپٹا ہوا ہوں اور یہ زمیں

    مرے وجود کی قیمت بتا رہی ہے مجھے

    یہ تیز دھوپ یہ صحراؤں کا سفر رخسارؔ

    یہی تپش ہے جو کندن بنا رہی ہے مجھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY