زخم سب اس کو دکھا کر رقص کر

عارف امام

زخم سب اس کو دکھا کر رقص کر

عارف امام

MORE BYعارف امام

    زخم سب اس کو دکھا کر رقص کر

    ایڑیوں تک خوں بہا کر رقص کر

    جامۂ خاکی پہ مشت خاک ڈال

    خود کو مٹی میں ملا کر رقص کر

    اس عبادت کی نہیں کوئی قضا

    سر کو سجدے سے اٹھا کر رقص کر

    دور ہٹ جا سایۂ محراب سے

    دھوپ میں خود کو جلا کر رقص کر

    بھول جا سب کچھ مگر تصویر یار

    اپنے سینے سے لگا کر رقص کر

    توڑ دے سب حلقۂ بود و نبود

    زلف کے حلقے میں جا کر رقص کر

    اس کی چشم مست کو نظروں میں رکھ

    اک ذرا مستی میں آ کر رقص کر

    اپنے ہی پیروں سے اپنا آپ روند

    اپنی ہستی کو مٹا کر رقص کر

    اس کے دروازے پہ جا کر دف بجا

    اس کو کھڑکی میں بلا کر رقص کر

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے