زمیں کے سارے مناظر سے کٹ کے سوتا ہوں

امیر امام

زمیں کے سارے مناظر سے کٹ کے سوتا ہوں

امیر امام

MORE BYامیر امام

    زمیں کے سارے مناظر سے کٹ کے سوتا ہوں

    میں آسماں کے سفر سے پلٹ کے سوتا ہوں

    میں جمع کرتا ہوں شب کے سیاہی قطروں کو

    بہ وقت صبح پھر ان کو پلٹ کے سوتا ہوں

    تلاش دھوپ میں کرتا ہوں سارا دن خود کو

    تمام رات ستاروں میں بٹ کے سوتا ہوں

    کہاں سکوں کہ شب و روز گھومنا اس کا

    ذرا زمین کے محور سے ہٹ کے سوتا ہوں

    ترے بدن کی خلاؤں میں آنکھ کھلتی ہے

    ہوا کے جسم سے جب جب لپٹ کے سوتا ہوں

    میں جاگ جاگ کے راتیں گزارنے والا

    اک ایسی رات بھی آتی ہے ڈٹ کے سوتا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY