زندگی تیری تمنا میں بسر ہو جائے

نبیل احمد نبیل

زندگی تیری تمنا میں بسر ہو جائے

نبیل احمد نبیل

MORE BYنبیل احمد نبیل

    زندگی تیری تمنا میں بسر ہو جائے

    اور کیا چاہئے جو بار دگر ہو جائے

    درد کی دھوپ ڈھلے آس کا موسم نکھرے

    تیرے امکان کا پودا جو شجر ہو جائے

    اپنی سچائی کا پھر مجھ کو یقیں آئے گا

    زینت دار و رسن میرا جو سر ہو جائے

    زندگی کرنے کا آ جائے سلیقہ جو ہمیں

    صورت خلد بریں اپنا یہ گھر ہو جائے

    مجھ کو بس اتنا ہی سامان سفر کافی ہے

    میری منزل ہی مرا رخت سفر ہو جائے

    کھل اٹھے پھول کی مانند مقدر میرا

    میرے محبوب اگر تیری نظر ہو جائے

    حاصل زیست وہی میری تمنا ہے وہی

    وہ کسی روز مقدر کا ثمر ہو جائے

    غم دنیا سے ملے مجھ کو رہائی اے نبیلؔ

    میری آہوں کا اگر اس پہ اثر ہو جائے

    کوئی دامن نہ اڑے زرد ہواؤں سے نبیلؔ

    گر سہارا جو بشر کا یہ بشر ہو جائے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY