تیز طوفان ہے مہینوں سے

الہڑبیکانیری

تیز طوفان ہے مہینوں سے

الہڑبیکانیری

MORE BYالہڑبیکانیری

    تیز طوفان ہے مہینوں سے

    لوگ اتریں کہاں سفینوں سے

    اتنا سامان کیوں تباہی کا

    ذہن پوچھے گا کب ذہینوں سے

    قہقہے کر نہ دیں مجھے پاگل

    خود پہ رویا کہاں مہینوں سے

    اک ستارا ہوں ٹوٹ جاؤں گا

    دیکھتے کیا ہو دوربینوں سے

    وہ نہ جانے کہاں ہیں کیسے ہیں

    ان کو دیکھا نہیں مہینوں سے

    تیر کیا خاک مارتے ہو الھڑ

    ہاتھ چھوٹے تھے آستینوں سے

    مأخذ :
    • کتاب : Hindustani Gazle.n

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے