آتش گل نہیں تو شعلۂ طور

جگر مراد آبادی

آتش گل نہیں تو شعلۂ طور

جگر مراد آبادی

MORE BY جگر مراد آبادی

    گونڈہ کے ایک مشاعرہ میں جگر مرادآبادی کے ساتھ اسٹیج پر اور بہت سے شاعر بیٹھے ہوئے تھے ۔ جگرؔ صاحب کے نئے مجموعے’’شعلۂ طور‘‘ کا موازنہ ان کے پہلے مجموعہ’’آتش گل ‘‘ سے کیا جارہا تھا ۔ ایک مقامی شاعر جو جگرؔ صاحب سے بغض رکھتے تھے اس ذکر سے کافی پریشان تھے ۔ جب ان کے پڑھنے کا وقت آیا تو اتفاق سے ان کے سامنے لٹکا ہوا گیس بھبھک گیا اور اس میں سے سرخ رنگ کی لپٹیں نکلنے لگیں ۔ اس پر وہ شاعر بولے کہ ذرا اس ’’آتش گل ‘‘ کو میرے سامنے سے ہٹاؤ۔ میری آنکھوں کے لئے اس کی روشنی مضر ہے ۔ جگرؔ صاحب اس جملے میں چھپے ہوئے طنز کو سمجھ گئے لیکن خاموش رہے منتظمین نے جب نیا گیس لاکر سامنے رکھا تو جگرؔ صاحب بولے’’لیجئے جناب اب تو آپ کے سامنے’’شعلۂ طور‘‘ لاکر رکھ دیا ہے ۔ اس سے آپ کی نگاہیں ضرور خیرہ ہوجائیں گی۔‘‘

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites