فراق کا اکیلا پن اور چور کی آمد

فراق گورکھپوری

فراق کا اکیلا پن اور چور کی آمد

فراق گورکھپوری

MORE BYفراق گورکھپوری

    فراق صاحب کی ساری زندگی تنہائی میں گزری ۔ آخری زمانے میں تو گھر میں نوکروں کے سوا اور کوئی نہیں رہتا تھا۔ کبھی کبھی تو تنہا اتنے بڑے گھر میں خاموش بیٹھے ہوئے سگریٹ پیا کرتے تھے۔خاص طورسے شام کو یہ تنہائیاں دردناک حد تک گہری ہوجاتی تھیں۔

    ایک ایسی ہی شام کو نوکر بازار گیا ہوا تھا ۔ ایک غنڈہ موقع غنیمت سمجھ کر دبے پاؤں گھر میں گھس آیا۔اس نے چاقونکال کر فراق صاحب کے سینے پر رکھ دیا اور رقم کا طلب گار ہوا۔

    فراق صاحب اس کو چپ چاپ دیکھتے رہے پھر بولے:

    ’’اگر تم جان لینا چاہتے ہو تو میں کچھ نہیں کہناچاہتا ۔ اگر روپیہ چاہتے ہو تو وہ میرے پاس نہیں ہے ۔ نوکر بازار گیا ہوا ہے...بیٹھ جاؤ...ابھی آجائے گا تو تمہیں روپیہ دلادوں گا۔‘‘

    حملہ آور بیٹھ گیا فراق صاحب نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا اور پھر بولے:

    ’’اچھا ہوا تم آگئے ۔میں بڑی تنہائی محسوس کررہا تھا۔‘‘

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY