فراق کی پیشکش

حفیظ جالندھری

فراق کی پیشکش

حفیظ جالندھری

MORE BYحفیظ جالندھری

    دلی کے ایک مشاعرے میں حفیظ جالندھری اپنی غزل سنارہے تھے کہ فراق گورکھپوری نے دفعتاً بلندآواز سے کہنا شروع کیا :’’واہ حفیظ پیارے ! کیا گلا پایا ہے ...یار میرا سارا کلام لے لو مگر اپنی آواز مجھے دے دو۔‘‘

    یہ سن کر حفیظ برجستہ بولے ’’جناب فراق صاحب! میں آپ کا نیاز مند ہوں ۔ میری آواز تو کیا، آپ مجھے بھی لے لیجئے لیکن خدا کے لئے مجھے اپنا کلام نہ دیجئے۔‘‘

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY