جہنم کی زبان

MORE BYکنور مہیندر سنگھ بیدی سحر

    جن دنوں جوش ملیح آبادی ماہنامہ’’آج کل ‘‘ کے مدیر اعلی تھے ، ان کے دفتر میں اکثر شاعروں ادیبوں اور مداحوں کی بھیڑ لگی رہتی تھی ۔ ایک مرتبہ پنڈت ہری چندا اختر عرش ملسیانی ، بسمل سعیدی ٹونکی ، جگن ناتھ آزاداور مانی جائسی جوش صاحب کے پاس بیٹھے تھے ۔ ادھر ادھر کی باتیں ہورہی تھیں کہ پنڈت جی نے بیدی صاحب کو پنجابی زبان میں مخاطب کیا ۔ جوش صاحب نے فوراً ٹوک کر کہا کہ پنڈت جی یہ تو جہنم کی زبان ہے ۔ بیدی صاحب نے فوراً گزارش کی کہ جوش صاحب آپ ابھی سے یہ زبان سیکھنا شروع کردیں تاکہ آپ کو آخری جائے قیام میں تکلیف نہ ہو۔‘‘

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY