نہ پھندا ہی ٹوٹتا ہے نہ دم ہی نکلتا ہے

مرزا غالب

نہ پھندا ہی ٹوٹتا ہے نہ دم ہی نکلتا ہے

مرزا غالب

MORE BYمرزا غالب

    امراو سنگھ جوہر ،گوپال تفتہؔ کے عزیز دوست تھے ۔ ان کی دوسری بیوی کے انتقال کا حال تفتہؔ نے مرزا صاحب کو بھی لکھا ، تو انہوں نے جواباً لکھا:

    ’’امراو سنگھ کے حال پر اس کے واسطے مجھ کو رحم اور اپنے واسطے رشک آتا ہے ۔ اللہ اللہ ! ایک وہ ہیں کہ دوبار ان کی بیڑیاں کٹ چکی ہیں اور ایک ہم ہیں کہ پچاس برس سے اوپر پھانسی کا پھندا گلے میں پڑا ہے ، نہ پھندا ہی ٹوٹتا ہے نہ دم ہی نکلتا ہے ۔‘‘

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY