طوائف کی شعر پر اصلاح

داغؔ دہلوی

طوائف کی شعر پر اصلاح

داغؔ دہلوی

MORE BYداغؔ دہلوی

    مرزا داغؔ کے شاگرد احسن مارہروی اپنی غزل پر اصلاح کے لیے ان کے پاس حاضر ہوئے ۔ اس وقت مرزا صاحب کے پاس دو تین دوستوں کے علاوہ ان کی ملازمہ صاحب جان بھی موجود تھی۔ جب احسنؔ نے شعر پڑھا۔

    کسی دن جا پڑے تھے بیخودی میں ان کے سینے پر

    بس اتنی سی خطا پر ہاتھ کچلے میرے پتھر سے

    اس پر صاحب جان جو صحبت یافتہ اور حاضر جواب طوائف تھی، بولی:

    ’’احسن میاں بیخودی میں بھی آپ دونوں ہاتھوں سے کام لیتے ہیں۔؟‘‘

    اس پر سب کھلکھلا کر ہنسنے لگے اور مرزا صاحب نے احسنؔ سے کہا :’’لیجئے صاحب جان نے آپ کے شعر کی اصلاح کردی ۔

    کسی دن جا پڑا تھا بیخودی میں ان کے سینے پر

    بس اتنی سی خطا پر ہاتھ کچلا میرا پتھر سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY