Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

لکھنؤ کے شاعر اور ادیب

کل: 290

بیسوی صدی کی اہم علمی شخصیت، مصنف، مترجم، ناول نگار، ڈرامہ نویس۔ لکھنؤ کی سماجی و تہذیبی زندگی کے رمز شناس

لکھنؤ کے اہم کلاسیکی شاعر، آتش کے شاگرد، شاہی خاندان کے قریب رہے، لکھنؤ پر لکھی اپنی طویل مثنوی ’افسانۂ لکھنؤ‘ کے لیے معروف

داغ دہلوی کے ہم عصر۔ اپنی غزل ’ سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ‘ کے لئے مشہور ہیں

لکھنؤ کے نامور شاعر، مرزا دبیر کے صاحبزادے، علم عروض پر اپنی کتاب’مقیاس الاشعار‘ کے لیے بھی معروف

لکھنؤ کی کلاسیکی شعری روایت کے ممتاز اور نمائندہ شاعر، مشہور ادیب امانت لکھنوی کے فرزند

پاکستان کے اہم ترین شاعروں میں نمایاں، اپنی تہذیبی رومانیت کے لیے معروف

19ویں صدی کے شاعر

اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ کے بیٹے اور ولی عہد

شہرہ آفاق عشقیہ مثنوی "زہر عشق " کے لیے معروف

ممتاز ترین جدید افسانہ نگار ، قدیم لکھنؤ کے ثقافتی تناظر میں اسرار بھری کہانیاں لکھنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ تنقیدی مضامین اور سوانحی کتابیں بھی تصنیف کیں۔

اپنے شہرۂ آفاق شعر 'کہہ رہا ہے شورِ دریا سے سمندر کا سکوت…' کے لئے مشہور

انیسویں صدی میں لکھنؤ کے ممتاز ترین شاعروں میں شامل، مشہور مثنوی گلزارِ نسیم کے خالق

مترجم ،فکشن نویس اور شاعر،اپنی کتاب فسانہ آزاد کے لیے مشہور

دبستان لکھنؤ کے نمائندہ شاعروں میں شمار، آتش کے شاگرد

کئی اخبارات کی ادارت کے فرائض انجام دینے والے ممتاز اردو صحافی

اپنے ناٹک ’اندرسبھا‘ کے لیے مشہور، اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ کے ہم عصر

قومی یکجہتی ،مذہبی ایکتا اور جذبہ آزادی سے سرشار شاعری کے لیے معروف، مجاہدآزادی،نو کلاسکی غزل کے شاعر

الہ آباد ہائی کورٹ کے جج تھے۔ لوک سبھا کے رکن بھی رہے

معروف فکشن نویس، شاعر اورناقد؛ لکھنؤ کےثقافتی اورتہذیبی تناظر میں ناول تحریر کیے

صاحب طرز خاکہ نگار، شاعر، نقاد اور بچوں کے ادیب

ان کی مشہور غزل ’ اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ‘ کو بہت سے گلوکاروں نے آواز دی ہے

میڈیکل ڈاکٹر/ لندن میں مقیم

ممتاز شاعر، ماہرِ لغت و قواعد اور اصلاحِ زبان کے نقیب

مابعد کلاسکی شاعر،دبستان لکھنو اور رام پور کے امتزاجی اسلوب کے نمائندہ شاعر

شاعر، علمِ عروض کے ماہر اور ممتاز محقق

ترقی پسندی سے وابستہ غزل گو شاعر

مقبول عام شاعر، لکھنوی زبان و تہذیب کے نمائندے

نسوانی مسائل اور بدلتی ہوئی سماجی و تہذیبی قدروں کی ترجمان فکشن نگار

عظیم شاعر میر تقی میر کے بیٹے

پاکستان کے ممتاز شاعر، موسیقار، گلوکار اور براڈکاسٹر تھے جنہوں نے مشہور گیت بندر روڈ سے کیماڑی، مری چلی رے گھوڑا گاڑی اور فیض احمد فیض کی مشہور نظم دشتِ تنہائی کی موسیقی ترتیب دی۔

لکھنو سے تعلق رکھنے والے کلاسکی غزل کے ممتاز استاد شاعر

دبستان لکھنؤ کے ممتاز کلاسیکی شاعر، اودھ کے آخری نواب واجد علی شاہ کے استاد

شاعر، نقاد اور ماہرِ تعلیم جن کے کام نے برصغیر میں اردو ادب، تاریخ اور فکری روایت کو جِلا بخشی

بھگوت گیتا کا اردو میں منظوم ترجمہ کرنے کے لئے مشہور

شاعر،خدنگ نظر،زمانہ کانپوراور ادیب جیسے رسائل کے مدیر

مشہور فلم موسیقار اور دادا صاحب پھالکے انعام یافتہ۔ شعری مجموعے کا نام ’آٹھواں سُر‘

انیسویں صدی کے ممتاز فکشن نگار، اپنی افسانوی تخلیق ’فسانۂ عجائب‘ کے لئے مشہور

مرثیہ ، غزل اور رباعی کے ممتاز شاعر- میر انیس کے نواسے

کلاسیکی کے آخری اہم شعراء میں ایک بیحد مقبول نام

بولیے