(۷) گردوں نے کس بلا کو یہ کر دیا اشارہ

میر تقی میر

(۷) گردوں نے کس بلا کو یہ کر دیا اشارہ

میر تقی میر

MORE BYمیر تقی میر

    گردوں نے کس بلا کو یہ کر دیا اشارہ

    ابن علی کو جن نے اس گھاٹ لا اتارا

    دریا کے خاک سر پر جو کر رہا کنارہ

    دنیا سے خشک لب یہ سید گیا ہمارا

    کر بند سب کا پانی پھر آگ آ لگائی

    چھاتی مسافروں کی سو رنگ سے جلائی

    گھٹنے کی بات یاں کی کس مرتبہ بڑھائی

    کیا کیا ہوئی چڑھائی کیا کیا دیا اتارا

    سید کے آنکھ مندتے کچھ اور تھا زمانہ

    عابد رہا سو اس کو موجود ہی نہ جانا

    ناموس احمدی کی عزت نہ کی نہ مانا

    گھر بار لوٹ سارا ان کو کیا اساریٰ

    وارث یہی رہا تھا بے چارہ دل شکستہ

    سو درمیاں کھڑا تھا ناچار دست بستہ

    کیا وارثی کرے وہ دل چاک سینہ خستہ

    یاری گر و نہ یاور جس کا نہ یار و یارا

    تھے لوگ سب حرم کے جوں بید سربرہنہ

    ان میں سکینہ جیسے خورشید سر برہنہ

    تھی شہر بانو یکسر نومید سربرہنہ

    نوحے سے جس کے جنگل تھا زلزلے میں سارا

    خاک سیاہ سے تھا قوم و قبیلہ یکساں

    منھ نوچتی تھی زینب کلثوم موپریشاں

    قاسم کی ماں بچاری اس واقعے سے حیراں

    مرنا تھا زندگی پر ان سب کے تیں گوارا

    کہتی تھی خوب دیکھی بیٹے کی کدخدائی

    کیا دھوم ہورہی تھی جس دم برات آئی

    کون آوے ہو براتی سب مر گئے تھے بھائی

    یا دولھا آن اترا یا مرنے کو سدھارا

    شادی رچی ہے ایسی کاہے کو کوئی آگے

    دولھا کے دست و پا میں لوہو کی مہندی لاگے

    بزم عروسی میں سے ہم روتے کڑھتے بھاگے

    نوشہ کا گھوڑا کہیے یا اس کے تیں کنوارا

    اس جمع کا تھا ازبس احوال اضطراری

    تھی فرط درد و غم سے ہر اک کو بے قراری

    منھ آسماں کی جانب کلثوم کر پکاری

    کاے چرخ ہم سبھوں کا کیا جل گیا ستارہ

    شہ آفتاب جو تھا اس پر زوال آیا

    سر پر رہا نہ اس کے ختم رسلؐ کا سایہ

    اکبر نے چاند سا منھ وو خاک میں چھپایا

    اصغر تھا طفل ہالہ بے وقت اس کو مارا

    ہے عابدیں جو باقی بیمار و ناتواں ہے

    درپیش پھر سفر ہے ساتھ اس کے کارواں ہے

    دلجوئی سکینہ کیا ہوسکے عیاں ہے

    شور اک اٹھا جو ان نے بابا کے تیں پکارا

    دادا کی اور منھ کر رویا یہ کہہ کے پوتا

    کاے جد پاک سایہ تیرا جو سر پہ ہوتا

    تو جان اپنی اکبر یوں رائیگاں نہ کھوتا

    ہم پر ستم نہ ہوتا اس طرح آشکارا

    کاہے کو یہ قیامت سر پر ہمارے ہوتی

    پھوپھی نہ سر کو اپنے یوں پیٹ پیٹ روتی

    روتی بلکتی پھرتی اس طور سے نہ پوتی

    غلطاں نہ خاک و خوں میں ہوتا حسین پیارا

    شش ماہہ طفل اصغر ایسا ستم نہ سہتا

    یہ سہل باتیں ہم کو ہر اک نہ منھ پہ کہتا

    جوش و خروش سے یوں دریاے خوں نہ بہتا

    لوہو سے اقربا کے ہوتی نہ خاک گارا

    اب یانصیب میں نے سر پر بلا اٹھائی

    مشکل گذار اس میں گو راہ پیش آئی

    کریے بیاں سو کس سے بابا رہا نہ بھائی

    یا ہے نظر خدا پر یا آسرا تمھارا

    اس طرز گفتگو کر چپکا ہوا وہ مغموم

    ناگفتہ میرؔ بہتر آگے جو کچھ ہے معلوم

    روتا چلا جو واں سے خاطرشکستہ مظلوم

    احوال دیکھ اس کا مشکل ہوا گذارا

    مأخذ :
    • کتاب : kulliyat-e-miir-Vol 2

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY