(۲۱) نہ چھوڑی دشمنوں نے گھر میں شے دوست

میر تقی میر

(۲۱) نہ چھوڑی دشمنوں نے گھر میں شے دوست

میر تقی میر

MORE BYمیر تقی میر

    نہ چھوڑی دشمنوں نے گھر میں شے دوست

    نہ چھوڑا پیچھے جیتا کوئی اے دوست

    رہیں نالاں نہ کیونکر مثل نے دوست

    ستم گذرا غضب ہے دوست ہے دوست

    کہاں آیا تو اپنے پاؤں چل کر

    جہاں سر یوں دیا آخر کو جل کر

    کہیں سو کیا کہیں اب ہاتھ مل کر

    یہی کہتے ہیں سب ہے دوست ہے دوست

    ہوئے درپے سبھی ناموس و جاں کے

    تھے اسلامی ترے دشمن کہاں کے

    بکھر جاتے ہیں جی پیر و جواں کے

    کہیں ہیں لڑکے جب ہے دوست ہے دوست

    فلک کی چال کینے کی نہ سمجھا

    ہوا پامال تو نقش قدم سا

    گیا سر کیوں کبھو تونے تو اس جا

    نہ رکھا پا کڈھب ہے دوست ہے دوست

    وطن سب کا عرب مدت کا باسا

    امام دیں محمدؐ کا نواسا

    موا آنکھوں کے آگے سب کے پیاسا

    عجب بل صد عجب ہے دوست ہے دوست

    جنھوں سے تھی امید مہربانی

    دریغ ان سب نے رکھا تجھ سے پانی

    ہوئی دریا پہ مشکل زندگانی

    موا تو تشنہ لب ہے دوست ہے دوست

    ہوئی نانا کی امت دشمن جاں

    رہا تو دیر خاک و خوں میں غلطاں

    رہی دیں داری و اسلام و ایماں

    نہ عزت نے ادب ہے دوست ہے دوست

    سبب ہو تو کہے کوئی موالی

    کہاں کی دشمنی تجھ سے نکالی

    نہیں مرنا ترا حسرت سے خالی

    گیا جی بے سبب ہے دوست ہے دوست

    بھتیجے بھائی بیٹے تیرے پیارے

    گئے ناچار ہوکر جی سے مارے

    ترے حصے میں کیا آئے تھے سارے

    غم و رنج و تعب ہے دوست ہے دوست

    اٹھائے تونے کیا کیا رنج و محنت

    گیا لے یاں سے کیسی کیسی حسرت

    یہ گر ایام پر پڑتی مصیبت

    تو دن ہوجاتے شب ہے دوست ہے دوست

    وطن سے ہائے کر کر رہ گرائی

    مصیبت دیکھی یا ایذا اٹھائی

    گیا جی سے ولے تونے نہ پائی

    زمیں بھی یک وجب ہے دوست ہے دوست

    سنی ہے مرگ ایسی بھی بہت کم

    رکے جاتے ہیں جی ہر لحظہ ہر دم

    کہیں کیا با ہزار افسوس و غم ہم

    کہا کرتے ہیں اب ہے دوست ہے دوست

    غیور ایسا نہ کوئی ہم نے پایا

    جگر حسرت نے پانی کر دکھایا

    موا لب خشک پر لب پر نہ لایا

    کبھو حرف طلب ہے دوست ہے دوست

    ترے اندوہ کہنے میں نہ آئے

    کڑوڑوں لاکھوں غم جی میں سمائے

    یہی افسوس کر سب کہنے پائے

    عجم سے تا عرب ہے دوست ہے دوست

    ترے ماتم کے جب پڑتے ہیں اسباب

    نہیں رہتی جیوں میں مطلقاً تاب

    جگر پھٹتے ہیں کس حسرت سے احباب

    کہیں ہیں زیر لب ہے دوست ہے دوست

    کہوں یہ واقعہ آگے تو غم ہو

    دلوں کو میرؔ صدگونہ الم ہو

    موا جس طرح وہ ثابت قدم ہو

    مرے یوں کوئی کب ہے دوست ہے دوست

    مأخذ :
    • کتاب : kulliyat-e-miir-Vol 2

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY