(۳۴) کیا نحس تھا دن روز سفر ہائے حسینا

میر تقی میر

(۳۴) کیا نحس تھا دن روز سفر ہائے حسینا

میر تقی میر

MORE BYمیر تقی میر

    کیا نحس تھا دن روز سفر ہائے حسینا

    ناموس کو نے گھر ہے نہ در ہائے حسینا

    اعوان ترے جو تھے انھیں کھا گئی تلوار

    انصار ترے سب گئے مر ہائے حسینا

    واماندہ ترے کہتے ہیں سر دیکھ کے تیرا

    ہم کیونکے کریں عمر بسر ہائے حسینا

    مدت تئیں کر یاد زمانے کو ترے ہم

    روتے رہیں گے آٹھ پہر ہائے حسینا

    ہم شام کو قیدی ہوچلے دیکھیے بارے

    ہوتی ہے یہ شب کیونکے سحر ہائے حسینا(۱)

    تجھ بن کمریں ٹوٹی ہی جاتی ہیں اگرچند

    ہم باندھتے ہیں کس کے کمر ہائے حسینا

    دل سوختگی اپنی کی کیا شرح کریں ہائے

    آنسو تو ہوئے جیسے شرر ہائے حسینا(۲)

    جوں نقش قدم خاک میں ہم ملتے ہیں تجھ بن

    پیدا نہیں کچھ تیرا اثر ہائے حسینا(۳)

    منظور نجابت نہ شرافت نہ سیادت

    اب عیب ہوئے سارے ہنر ہائے حسینا

    وارث نہیں جو پانی دے تم پیاسے موؤں کو

    باقی ہے سو بیمار پسر ہائے حسینا

    تیرا ہی جگر تھا کہ ستم تونے یہ دیکھے

    سب ٹکڑے ہوئے تیرے جگر ہائے حسینا

    اس دشت میں یہ منفعت آکر کے اٹھائی

    تو کھینچ گیا جی کا ضرر ہائے حسینا

    جز جور و ستم کچھ نہیں دیتا ہے دکھائی

    جاتی ہے جدھر اپنی نظر ہائے حسینا

    کیا خانہ خرابی کا بیاں کرتے ترے ساتھ

    اٹھتے ہی ترے لٹ گیا گھر ہائے حسینا(۴)

    لالا کے بٹھاتے ہیں ہمیں راہگذر میں

    تو جی سے گیا ہے جو گذر ہائے حسینا

    اکبر کو کہ اصغر کو کہ قاسم کو کڑھیں ہم

    کیا خاک برابر ہیں گہر ہائے حسینا

    ایسا تو گیا اٹھ کے کہاں گھر سے کہ ہم تک

    پھر آئی نہ کچھ خیرخبر ہائے حسینا

    نے سایہ جہاں بیٹھیے نے سر پہ ہے چادر

    ہے حال نہایت ہی بتر ہائے حسینا

    ہم دست تلطف کے ترے اٹھتے ہی سارے

    ہر خس کے ہوئے دست نگر ہائے حسینا

    اس قوم سیہ رو نے زیادہ دہنی سے

    کچھ کسر میں چھوڑی نہ کسر ہائے حسینا

    کیا اکبر و قاسم ہیں سبھی حلق بریدہ

    یہ پودے عجب لائے ثمر ہائے حسینا

    بے خوف و خطر لوٹتے ہیں گھر کو مخالف

    تو ہو تو ترا ہووے بھی ڈر ہائے حسینا(۵)

    ہر سمت کو سر مارتے جنگل میں پھریں ہیں

    اب جا کے تجھے ڈھونڈیں کدھر ہائے حسینا

    ٹھہرے ہے کوئی جن و ملک تیری جگہ پر

    یہ صبر نہ تھا حد بشر ہائے حسینا

    لب خشک عزیز اپنے جو سب مارے پڑے ہیں

    ہر لحظہ مژہ ہوتی ہے تر ہائے حسینا(۱)

    کیا کیا نہ اذیت ہمیں دیتے ہیں گزندے

    حیدر نہیں جس کا ہو خطر ہائے حسینا

    انواع ستم دیکھتے ہیں تیرے موئے پر

    کھول آنکھ ٹک انصاف تو کر ہائے حسینا

    آگے بھی کہیں میرؔ جو کچھ بات رہی ہو

    ہے لب پہ یہی شام و سحر ہائے حسینا

    مأخذ :
    • کتاب : kulliyat-e-miir-Vol 2

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY