گلے باز شاعر

پاپولر میرٹھی

گلے باز شاعر

پاپولر میرٹھی

MORE BYپاپولر میرٹھی

    گلے بازی کے لیے ملک میں مشہور ہیں ہم

    شعر کہنے کا سوال آئے تو مجبور ہیں ہم

    اپنے اشعار سمجھنے سے بھی معذور ہیں ہم

    فن سے غالبؔ کے بہت دور بہت دور ہیں ہم

    اپنی شہرت کی الگ راہ نکالی ہم نے

    کسی دیواں سے غزل کوئی چرا لی ہم نے

    سرقۂ فن پہ سبھی صاحب فن جھوم اٹھے

    شعر ایسے تھے کہ ارباب سخن جھوم اٹھے

    لالہ رخ جھوم اٹھے شعلہ بدن جھوم اٹھے

    شیخ جی جھوم اٹھے لالہ مدن جھوم اٹھے

    کل جو قائم تھا ہمارا وہ بھرم آج بھی ہے

    یعنی اللہ کا مخصوص کرم آج بھی ہے

    کہیں نو سو ہمیں ملتے ہیں کہیں ڈیڑھ ہزار

    چاہنے والے ہیں اتنے کہ نہیں کوئی شمار

    ایک اک شعر کو پڑھواتے ہیں سب دس دس بار

    یا الٰہی نہ ہو آواز ہماری بے کار

    ہوگی آواز جو بے کار تو مر جائیں گے

    مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

    روز رہتے ہیں سفر میں ہمیں سب جانتے ہیں

    نازشؔ و حافظؔ و خیامؔ ہمیں مانتے ہیں

    کتنے ہی غالبؔ دوراں ہمیں گردانتے ہیں

    نورؔ بھیا ہوں کہ تاباںؔ سبھی پہچانتے ہیں

    روز ہوتے ہیں وطن میں ادبی ہنگامے

    ایک دن میں کئی آ جاتے ہیں دعوت نامے

    آزمایا گیا اک دن سر محفل ہم کو

    جب کسی نے نہیں سمجھا کسی قابل ہم کو

    لوگ کہنے لگے ہر سمت سے جاہل ہم کو

    نقلی شہرت نے کچھ اتنا کیا بد دل ہم کو

    دیکھتے ہیں ہمیں نفرت سے زمانے والے

    مر گئے سارے ہی کیا ہم کو بلانے والے

    مأخذ :
    • کتاب : Hans Kar Guzaar De (Pg. 77)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY