عشق جب سے ہو گیا اک لکھنوی خاتون سے

ظفر کمالی

عشق جب سے ہو گیا اک لکھنوی خاتون سے

ظفر کمالی

MORE BYظفر کمالی

    عشق جب سے ہو گیا اک لکھنوی خاتون سے

    دل کی باتیں روز ہی کرتا ہوں ٹیلیفون سے

    جو غلاظت دل میں ہے وہ دور ہوگی کس طرح

    گندگی تو جسم کی دھوتے ہو تم صابون سے

    شیروانی اور ٹوپی جائیں چولھے بھاڑ میں

    اب تو رغبت ہے مجھے بس کوٹ سے پتلون سے

    پوپلے منہ سے چنے کھانا نہیں ممکن حضور

    آ نہیں سکتی جوانی لوٹ کے معجون سے

    ناقد اعظم ہوں مولی پر لکھوں مضمون اگر

    بات کا آغاز کرتا ہوں میں افلاطون سے

    ایک ہی صورت میں گھر کی پوری ہوں فرمائشیں

    خاندانی سلسلہ ملتا ہو گر قارون سے

    اس زمانے کی عجب تشنہ لبی ہے اے ظفرؔ

    پیاس اس کی صرف بجھتی ہے ہمارے خون سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY