شیخ آئے جو محشر میں تو اعمال ندارد

ماچس لکھنوی

شیخ آئے جو محشر میں تو اعمال ندارد

ماچس لکھنوی

MORE BYماچس لکھنوی

    شیخ آئے جو محشر میں تو اعمال ندارد

    جس مال کے تاجر تھے وہی مال ندارد

    کچھ ہوتا رہے گا یوں ہی ہر سال ندارد

    تبت کبھی غائب کبھی نیپال ندارد

    رومال جو ملتے تھے تو تھی رال ندارد

    اب رال ٹپکتی ہے تو رومال ندارد

    تحقیق کیا ان کا جو شجرہ تو یہ پایا

    کچھ یوں ہی سی ننھیال ہے ددھیال ندارد

    ہے اس بت کافر کا شباب اپنا بڑھاپا

    ماضی ہے ادھر گول ادھر حال ندارد

    تعداد میں ہیں عورتیں مردوں سے زیادہ

    قوالیاں موجود ہیں قوال ندارد

    بیوی کی بھی جوتی کے تلے ہو گئے غائب

    شوہر کے اگر سر سے ہوئے بال ندارد

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY