آج کل کاہے کو بتلاتے ہو گستاخی معاف

میر تقی میر

آج کل کاہے کو بتلاتے ہو گستاخی معاف

میر تقی میر

MORE BYمیر تقی میر

    آج کل کاہے کو بتلاتے ہو گستاخی معاف

    راستی یہ ہے کہ وعدے ہیں تمہارے سب خلاف

    آہ برچھی سی لگی تھی تیر سی دل کی تپش

    ہجر کی شب مجھ پہ گزری غیرت روز مصاف

    ایک دن میں نے لکھا تھا اس کو اپنا درد دل

    آج تک جاتا نہیں سینے سے خامے کے شگاف

    پاؤں پر سے اپنے میرا سر اٹھانے مت جھکو

    تیغ باندھی ہے میاں تم نے کمر میں خوش غلاف

    صف الٹ جا عاشقوں کی گر ترے ابرو ہلیں

    ایک دم تلوار کے چلنے میں ہووے ملک صاف

    شیخ مت روکش ہو مستوں کا تو اس جبے اپر

    لیتے استجنے کو ڈھیلا تیری ٹل جاتی ہے ناف

    عشق کے بازار میں سودا نہ کیجو تو تو میرؔ

    سر کو جب واں بیچ چکتے ہیں تو یہ ہے دست لاف

    مأخذ :
    • کتاب : MIRIYAAT - Diwan No- 1, Ghazal No- 0249

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے