زخمی کئے عدو نے مرے مصطفیٰ کے ہاتھ
زخمی کئے عدو نے مرے مصطفیٰ کے ہاتھ
پھر بھی دعائیں دیتے رہے وہ اٹھا کے ہاتھ
جبریل تم نے ہاتھ سے موقع گنوا دیا
جانا تھا آگے تھامے ہوئے مصطفیٰ کے ہاتھ
طاقت کا اس کی اب کوئی اندازہ کیا کرے
جس نے قمر کو توڑ دیا ہو ہلا کے ہاتھ
جب تک نہ سر کی آنکھوں سے دیکھوں در رسول
تب تک الٰہی باندھ دے میری قضا کے ہاتھ
مقبول بارگاہ رسول خدا میں ہوں
میں نے درود بھیجے ہیں باد صبا کے ہاتھ
جانے سے روکے گا مجھے خلد بریں میں کون
محشر میں سب رہے گا مرے مصطفیٰ کے ہاتھ
ٹکتے نہیں ہیں پاؤں ہمارے زمین پر
آئے ہیں ان کی جالی پہ جب سے لگا کے ہاتھ
دوزخ کی آگ جس کو بنا دے گی کوئلہ
اس کو بھی بخشوائیں گے آقا اٹھا کے ہاتھ
ہو جائے کب نہ جانے اشارہ رسول کا
بیٹھا ہوں نورؔ اس لئے اپنے اٹھا کے ہاتھ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.