Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تنہائی

MORE BYقمر عباس علوی

    تنہائی چائے کے خالی کپ ہیں جنہیں بھرا جا سکتا ہے

    وہ گھر ہیں جن میں بسیرا کیا جا سکتا ہے

    وہ راہیں ہیں جنہیں دریافت کیا جا سکتا ہے

    وہ پھول ہیں جنہیں توڑا جا سکتا

    اسے بھرا جا سکتا ہے

    سگریٹ کے دھویں سے مرغولے بناتے

    کسی اجنبی سے بے تکان باتیں کرتے یا اپنے پیاروں کی یاد میں کہانیاں لکھتے

    چائے ٹھنڈی ہو کر اپنا لطف کھو دیتی ہے اور تنہائی رفاقت میں

    سہرے میں لگا پھول محدود ہے یا جنازے میں رکھی پتیاں

    شاخ پھول کو آزاد رکھتی ہے

    تنہا آدمی کبھی اکیلا نہیں ہوتا

    تنہائی اور وسعت ہم معنی ہیں

    یہ طاقت رکھتی ہے آپ کی پسندیدہ اشیا کو بے معنی بنانے کی

    معمولی تحفوں کو انمول یا مدتوں قبل بچھڑے ہوؤں کو دل کے قریب لانے کی

    تنہا رہنا اتفاق نہیں انتخاب ہے

    بھیڑ میں تنہا رہا جا سکتا ہے اور تنہائی میں محفل لگائی جا سکتی ہے

    آنکھیں بند کرتے زمان و مکان کی قید سے آزاد

    یہ انسان کا خدائی اختیار ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے