چڑیا اور کوئل

کشور ناہید

چڑیا اور کوئل

کشور ناہید

MORE BYکشور ناہید

    موٹا سا اک باجے والا

    چلتا چلتا جنگل آیا

    جنگل میں کوئل رہتی تھی

    پنجرے میں بند وہ بیٹھی تھی

    باجے کو دیکھ کے چہکی وہ

    مدت کے بعد ہی بولی وہ

    تو باجا بجا میں گاؤں گی

    نغمے میں اچھے سناؤں گی

    کوئل نے یوں گانا گایا

    باجے والا بھی مست ہوا

    تھی پاس ہی ایک چڑیا بیٹھی

    گانا سن کے وہ کہنے لگی

    کوئل بی تم کو ہے آتا

    کتنا اچھا گانا گانا

    آواز تمہاری پیاری ہے

    ساری دنیا سے نیاری ہے

    تم خود ہی گیت بناتی ہو

    تم خود ہی اچھا گاتی ہو

    تم کیوں اس باجے والے کو

    کہتی ہو ساز بجانے کو

    پھر ایک دن یہ باجے والا

    ہر ایک سے یہ کہتا ہوگا

    میں نے ہی جا کر سکھلایا

    کوئل کو بھی گانا گانا

    میری مانو اک کام کرو

    تم روشن اپنا نام کرو

    پنجرے سے نکل باہر آؤ

    تم ڈالی ڈالی خود گاؤ

    یہ سن کے کوئل بھی ہنس دی

    چڑیا سے پھر وہ یوں بولی

    کیا کوئی ہنر بھی بن سیکھے

    آتا ہے کسی کو چپکے سے

    جب مشق نہیں کرتا کوئی

    ماہر نہیں بن سکتا کوئی

    جس نے کیا اپنے فن کو یاد

    آخر وہی کہلایا استاد

    مأخذ :
    • کتاب : Aankh Mecholi (Pg. 13)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY