عورتوں کی اسمبلی

سید ضمیر جعفری

عورتوں کی اسمبلی

سید ضمیر جعفری

MORE BYسید ضمیر جعفری

    وہ شانوں پہ زرکار آنچل اچھالے

    ادھر سے ادھر مست زلفوں کو ڈالے

    میاں اور بچے خدا کے حوالے

    حسیں ہاتھ میں نرم فائل سنبھالے

    کس انداز سے ناز فرما رہی ہے

    کہ جیسے چمن میں بہار آ رہی ہے

    مباحث میں یوں گرم گفتار ہیں سب

    کہ بس لڑنے مرنے کو تیار ہیں سب

    فسوں کار ہیں سب طرح دار ہیں سب

    برابر برابر کی سرکار ہیں سب

    ادھر اصغری بھڑک گئی اکبری سے

    ادھر طفل رونے لگے گیلری سے

    ‘‘اسپیچوں’’ میں گوٹے کناری کی باتیں

    بہو کی کفایت شعاری کی باتیں

    پڑوسن کی پرہیزگاری کی باتیں

    غرض ہر بیاہی کنواری کی باتیں

    رواں ہیں ہجوم تجلی کے دھارے

    یہ آنچل سمیٹے وہ گیسو سنوارے

    دم گفتگو کوئی جیتے نہ ہارے

    ستاروں سے ٹکرا رہے ہیں ستارے

    بوا کو تو دیکھو نہ گہنا نہ پاتا

    بجٹ ہاتھ میں جیسے دھوبن کا کھاتا

    بہ انداز غیظ و غضب بولتی ہیں

    بہ آواز شور و شغب بولتی ہیں

    نہیں بولتی ہیں تو کب بولتی ہیں

    یہ جب بولتی ہیں تو سب بولتی ہیں

    معاً اپنے خوابوں میں گم ہو گئی ہیں

    ابھی جاگتی تھیں ابھی سو گئی ہیں

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY