کرکٹ میچ

ساغر خیامی

کرکٹ میچ

ساغر خیامی

MORE BYساغر خیامی

    بیزار ہو گئے تھے جو شاعر حیات سے

    کرکٹ کا میچ کھیل لیا شاعرات سے

    واقف نہ تھے جو دوستو! عورت کی ذات سے

    چوکے لگا رہے تھے خیالوں میں رات سے

    آئی جو صبح شام کے نقشے بگڑ گئے

    سروں سے ہم غریبوں کے اسٹمپ اکھڑ گئے

    ناز و ادا و حسن نے جادو جگا دیے

    پہلے تو اوپنر کے ہی چھکے چھڑا دیے

    ون ڈاؤن پہ جو آئے تو اسٹمپ اڑا دیے

    راہ فرار کے بھی تو رستے بھلا دیے

    گو کیچ ویری لو تھا مگر بے دھڑک لیا

    اک محترم کو اک نے گلی میں لپک لیا

    کیا کیا بیان کیجیے اک اک کا بانکپن

    جلوہ فگن زمیں پہ تھی تاروں کی انجمن

    حسن و شباب و عشق سے بھرپور ہر بدن

    شاعر پویلین میں تھے پہنے ہوئے کفن

    جتنی تھیں بیوٹی فل وہ سلپ پر گلی پہ تھیں

    جتنی تھیں اوور ایج سبھی باؤنڈری پہ تھیں

    پریوں کے جس طرح سے پرے کوہ قاف پر

    اک لانگ آن پر تھی تو اک لانگ آف پر

    اک تھی کور میں ایک حسینہ مڈ آف پر

    جو شارٹ پچ تھی گیند وہ آتی تھی ناف پر

    ٹھہرے نہ وہ کریز پہ جو تھے بڑے بڑے

    مجھ جیسے ٹیم ٹام تو وکٹوں پہ پھٹ پڑے

    وہ لال گیند پھول ہو جیسے گلاب کا

    جس طرح دست ناز میں ساغر شراب کا

    سایہ ہوا میں ناچتا تھا آفتاب کا

    بمپر میں سارا زور تھا حسن و شباب کا

    ایسے بھی اپنے عشق کا میداں بناتے تھے

    امپائر ہر اپیل پر انگلی اٹھاتے تھے

    جب بال پھینکتی تھی وہ گیسو سنوار کے

    نزدیک اور ہوتے تھے حالات ہار کے

    کہتے تھے میچ دیکھنے والے پکار کے

    استاد جا رہے ہیں شب غم گزار کے

    استاد کہہ رہے تھے کہ پھٹکار میچ پر

    دو دو جھپٹ رہی ہیں شریفوں کے کیچ پر

    مآخذ :
    • کتاب : kulliyat-e-saghar khyaamii (Pg. 233)

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY