عشق اب میل سے بے میل ہوا جاتا ہے

ماچس لکھنوی

عشق اب میل سے بے میل ہوا جاتا ہے

ماچس لکھنوی

MORE BYماچس لکھنوی

    عشق اب میل سے بے میل ہوا جاتا ہے

    میرا غم ان کے لئے کھیل ہوا جاتا ہے

    مشغلہ اشک فشانی کا تھا پہلے بھی مگر

    اب تو یہ شغل دھکا پیل ہوا جاتا ہے

    حسن اور عشق کا جھگڑا بھی کوئی جھگڑا ہے

    وہ لڑائی ہوئی یہ میل ہوا جاتا ہے

    حسن یوں خوش ہے کہ ہے تیسرے بچے کا نزول

    عشق یوں خوش ہے کہ پچ میل ہوا جاتا ہے

    گندھ کے پھولوں میں ترے سرو سے قد پر گیسو

    خوش نما پھولی پھلی بیل ہوا جاتا ہے

    حکم بیگم کے چلا کرتے ہیں جیلر کی طرح

    اب مرا گھر بھی مجھے جیل ہوا جاتا ہے

    اس قدر صرف الٰہی مرے خون دل کا

    اب محبت کا بجٹ فیل ہوا جاتا ہے

    کہیں بجھ سکتا ہے ماچسؔ یہ محبت کا چراغ

    جسم کا خون ہی جب تیل ہوا جاتا ہے

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY