نیا ہاتھی

رضا نقوی واہی

نیا ہاتھی

رضا نقوی واہی

MORE BYرضا نقوی واہی

    شادیاں ہوتی تھیں جب پہلے کسی دیہات میں

    چند ہاتھی بھی منگائے جاتے تھے بارات میں

    تاکہ کچھ ساراتیوں پر رعب سمدھی کا پڑے

    اور اس کے نام کا اطراف میں جھنڈا گڑے

    ہاتھیوں کو دیکھ کر اطراف میں ہوتی تھی دھوم

    گھیر لیتا تھا انہیں اہل تماشا کا ہجوم

    ان کی خورش پر مگر ہوتی تھی خرچ اتنی رقم

    صاحب خانہ بچارے کا نکل جاتا تھا دم

    گاڑیوں برگد کے پتے ایک من پختہ اناج

    ایک ہاتھی کو ملا کرتا تھا روزانہ خراج

    جب عدم آباد کی جانب زمیں داری گئی

    رفتہ رفتہ ہاتھیوں کی گرم بازاری گئی

    اور اب ان کے عوض ہر گاؤں ہر دیہات میں

    نا خدایان سیاست جاتے ہیں بارات میں

    آج کل شوبھا بڑھانے کے لئے بارات کی

    ہر لگن میں مانگ ہوتی ہے انہیں حضرات کی

    ان کی آمد سے بھی مچ جاتی ہے چاروں سمت دھوم

    گھیر لیتا ہے انہیں بھی گاؤں والوں کا ہجوم

    میزباں کے گھر کی رونق شان و شوکت رعب داب

    دفعتاً بڑھتے ہیں بے پایاں و بے حد و حساب

    ایک ہاتھی پر جو پہلے خرچ ہوتی تھی رقم

    ایک نیتا پر وہی ہوتی ہے صرف اب بیش و کم

    فرق صرف یہ ہے کہ وہ کھاتا تھا گلا یہ پلاؤ

    اس کا حصہ ایک من تھا ان کا حصہ تین پاؤ

    اس کے آگے ٹوکرا تھا ان کے آگے خاص دان

    وہ چبا جاتا تھا پتے یہ چبا جاتے تھے پان

    پانچ میں ملتا تھا پہلے ایک من گلے کا ڈھیر

    سینکڑوں کی اب چپت ہے مرغ و ماہی و بٹیر

    مانگتے ہیں دعوت شادی میں سب ہر بار مرغ

    اب حساب اس کا لگا لو ایک نیتا چار مرغ

    اس ترازو میں برابر ہیں وہ نیتا ہوں کہ فیل

    کھاتے ہیں جنتا کا حصہ بھی یہ جنتا کے وکیل

    خواہ نیتا ہو کہ ہاتھی نام باراتی کا ہے

    الغرض دیوالیہ ہر حالت میں ساراتی کا ہے

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY