شاید

بلراج کومل

شاید

بلراج کومل

MORE BY بلراج کومل

    کچھ لوگ

    جو میرے دل کو اچھے لگتے تھے

    عمروں کے ریلے میں آئے

    اور جا بھی چکے

    کچھ دھندوں میں مصروف ہوئے

    کچھ چوہا دوڑ میں جیتے گئے

    کچھ ہار گئے

    کچھ قتل ہوئے

    کچھ بڑھتی بھیڑ میں

    اپنے آپ سے دور ہوئے

    کچھ ٹوٹ گئے کچھ ڈوب گئے

    مجھ پر یہ خوف اب چھایا ہے

    میں کس سے ملنے جاؤں گا

    میں کس کو پاس بلاؤں گا

    آندھی ہے، گرم ہوا ہے، آگ برستی ہے

    کچھ دیر ہوئی

    اک صورت، شبنم سی صورت

    اس تپتی راہ سے گزری تھی

    دو بچے پیڑ کے پتوں میں چھپ کر بیٹھے تھے

    ہنستے شور مچاتے تھے

    اک دوست پرانا

    برسوں بعد ملا مجھ کو

    اس جلتے دن کی

    صبح کچھ ایسی روشن تھی

    جب باد صبا وارفتہ رو

    خوشبوؤں، نغموں، ننھی منی باتوں کا

    انداز لیے آنگن میں چلی

    میں زندہ ہوں

    یہ سوچ کے خوش ہو جاتا ہوں

    وہ تھوڑی دیر تو میرے پاس سے گزری تھی

    وہ میرے دل میں اتری تھی

    اس بے محرم سے موسم میں

    شاید وہ کل بھی آئے گی

    شاید وہ کل بھی میری راہ سے گزرے گی

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    شاید نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites