ہولی

MORE BYنذیر بنارسی

    کہیں پڑے نہ محبت کی مار ہولی میں

    ادا سے پریم کرو دل سے پیار ہولی میں

    گلے میں ڈال دو بانہوں کا ہار ہولی میں

    اتارو ایک برس کا خمار ہولی میں

    ملو گلے سے گلے بار بار ہولی میں

    لگا کے آگ بڑھی آگے رات کی جوگن

    نئے لباس میں آئی ہے صبح کی مالن

    نظر نظر ہے کنواری ادا ادا کمسن

    ہیں رنگ رنگ سے سب رنگ بار ہولی میں

    ملو گلے سے گلے بار بار ہولی میں

    ہوا ہر ایک کو چل پھر کے گدگداتی ہے

    نہیں جو ہنستے انہیں چھیڑ کر ہنساتی ہے

    حیا گلوں کو تو کلیوں کو شرم آتی ہے

    بڑھاؤ بڑھ کے چمن کا وقار ہولی میں

    ملو گلے سے گلے بار بار ہولی میں

    یہ کس نے رنگ بھرا ہر کلی کی پیالی میں

    گلال رکھ دیا کس نے گلوں کی تھالی میں

    کہاں کی مستی ہے مالن میں اور مالی میں

    یہی ہیں سارے چمن کی پکار ہولی میں

    ملو گلے سے گلے بار بار ہولی میں

    تمہیں سے پھول چمن کے تمہیں سے پھلواری

    سجائے جاؤ دلوں کے گلاب کی کیاری

    چلائے جاؤ نشیلی نظر سے پچکاری

    لٹائے جاؤ برابر بہار ہولی میں

    ملو گلے سے گلے بار بار ہولی میں

    ملے ہو بارہ مہینوں کی دیکھ بھال کے بعد

    یہ دن ستارے دکھاتے ہیں کتنی چال کے بعد

    یہ دن گیا تو پھر آئے گا ایک سال کے بعد

    نگاہیں کرتے چلو چار یار ہولی میں

    ملو گلے سے گلے بار بار ہولی میں

    برائی آج نہ ایسے رہے نہ ویسے رہے

    صفائی دل میں رہے آج چاہے جیسے رہے

    غبار دل میں کسی کے رہے تو کیسے رہے

    ابیر اڑتی ہے بن کر غبار ہولی میں

    ملو گلے سے گلے بار بار ہولی میں

    حیا میں ڈوبنے والے بھی آج ابھرتے ہیں

    حسین شوخیاں کرتے ہوئے گزرتے ہیں

    جو چوٹ سے کبھی بچتے تھے چوٹ کرتے ہیں

    ہرن بھی کھیل رہے ہیں شکار ہولی میں

    ملو گلے سے گلے بار بار ہولی میں

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Nazeer Banarasi (Pg. 383)
    • Author : naziir banarsi
    • مطبع : Educational Publishing House, Delhi (2014)
    • اشاعت : 2014

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY