ہولی

MORE BYنظیر اکبرآبادی

    ملنے کا ترے رکھتے ہیں ہم دھیان ادھر دیکھ

    بھاتی ہے بہت ہم کو تری آن ادھر دیکھ

    ہم چاہنے والے ہیں ترے جان ادھر دیکھ

    ہولی ہے صنم ہنس کے تو اک آن ادھر دیکھ

    اے رنگ بھرے نو گل خنداں ادھر دیکھ

    ہم دیکھنے تیرا یہ جمال اس گھڑی اے جاں

    آئے ہیں یہی کرکے خیال اس گھڑی اے جاں

    تو دل میں نہ رکھ ہم سے ملال اس گھڑی اے جاں

    مکھڑے پہ ترے دیکھ گلال اس گھڑی اے جاں

    ہولی بھی یہی کہتی ہے اے جان ادھر دیکھ

    اب زرد یہ چیرا جو ترے سر پہ جما ہے

    اور اس پہ یہ طرہ جو زری کا بھی دھرا ہے

    نیما بھی ترا رنگ سے کیسر کے بھرا ہے

    پوشاک پہ تیری گل صد برگ فدا ہے

    نرگس تری آنکھوں پہ ہے قربان ادھر دیکھ

    ہولی کی طرب ہے جو ہر اک جا میں نمودار

    سنتے ہیں کہیں راگ کہیں مے سے ہیں سرشار

    ہے دل میں ہمیں تو تری نظروں سے سروکار

    پچکاری ہمارے تو لگا یا نہ لگا یار

    ہم کو تو فقط ہے یہی ارمان ادھر دیکھ

    ہے دھوم سے ہولی کی کہیں شور کہیں غل

    ہوتا نہیں کچھ رنگ چھڑکنے میں تأمل

    دف بجتے ہیں سب ہنستے ہیں اور دھوم ہے بالکل

    ہولی کی خوشی میں تو نہ کر ہم سے تغافل

    اے جان ہمارا بھی کہا مان ادھر دیکھ

    ہے دید کی ہر آن طلب دل کو ہمارے

    جیتے ہیں فقط تیری نگاہوں کے سہارے

    ہیں یاں جو کھڑے آن کے اس شوق کے مارے

    ہم ایک نگہ کے ترے مشتاق ہیں پیارے

    ٹک پیار کی نظروں سے مری جان ادھر دیکھ

    ہر چار طرف ہولی کی دھومیں ہیں اہا ہا

    دیکھو جدھر آتا ہے نظر روز تماشا

    ہر آن جھمکتا ہے عجب عیش کا چرچا

    ہولی کو نظیرؔ اب تو کھڑا دیکھے ہے یاں کیا

    محبوب یہ آیا ارے نادان ادھر دیکھ

    مأخذ :

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY