ہولی

MORE BYنظیر اکبرآبادی

    قاتل جو میرا اوڑھے اک سرخ شال آیا

    کھا کھا کے پان ظالم کر ہونٹھ لال آیا

    گویا نکل شفق سے بدر کمال آیا

    جب منہ سے وہ پری رو مل کر گلال آیا

    اک دم تو دیکھ اس کو ہولی کو حال آیا

    عیش و طرب کا سامان ہے آج سب گھر اس کے

    اب تو نہیں ہے کوئی دنیا میں ہمسر اس کے

    از ماہ تاب ماہی بندے ہیں بے زر اس کے

    کل وقت شام سورج ملنے کو منہ پر اس کے

    رکھ کر شفق کے سر پر طشت گلال آیا

    خالص کہیں سے تازی اک زعفران منگا کر

    مشک و گلاب میں بھی مل کر اسے بسا کر

    شیشے میں بھر کے نکلا چپکے لگا چھپا کر

    مدت سے آرزو تھی اک دم لگا چکا کر

    اک دن صنم پہ جا کر میں رنگ ڈال آیا

    ارباب بزم بھر تو وہ شاہ اپنے لے کر

    سب ہم نشین حسب دل خواہ اپنے لے کر

    چالاک چست کافر گمراہ اپنے لے کر

    دس بیس گل رخوں کو ہم راہ اپنے لے کر

    یوں ہیں بھگونے مجھ کو وہ خوش جمال آیا

    عشرت کا اس گھڑی تھا اسباب سب مہیا

    بہتا تھا حسن کا بھی اس جا پہ ایک دریا

    ہاتھوں میں دلبروں کے ساغر کسی کے شیشہ

    کمروں میں جھولیوں میں سیروں گلال باندھا

    اور رنگ کی بھی بھر کر مشک و پکھال آیا

    عیارگی سے پہلے اپنے تئیں چھپا کر

    چاہا کہ میں بھی نکلوں ان میں سے چھٹ چھٹا کر

    دوڑے کئی یہ کہہ کر جاتا ہے دم چرا کر

    اتنے میں گھیر مجھ کو اور شور و غل مچا کر

    اس دم کمر کمر تک رنگ و گلال آیا

    یہ چہل تو کچھ اپنی قسمت سے مچ رہی تھی

    یہ آبرو کی پردہ حرمت سے بچ رہی تھی

    کیسا سماں تھا کیسی شادی سی رچ رہی تھی

    اس وقت میرے سر پر اک دھوم مچ رہی تھی

    اک دھوم میں بھی مجھ کو جو کچھ خیال آیا

    لازم نہ تھی یہ حرکت اے خوش صفیر تجھ کو

    اظہر ہے سب کہے ہیں مل کر شریر تجھ کو

    کرتے ہیں اب ملامت خرد و کبیر تجھ کو

    لاحول پڑھ کے شیطان بولا نظیرؔ تجھ کو

    اب ہولی کھیلنے کا پورا کمال آیا

    مأخذ :

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY