Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اکثر میں سوچتا ہوں

عادل اسیر دہلوی

اکثر میں سوچتا ہوں

عادل اسیر دہلوی

MORE BYعادل اسیر دہلوی

    کیسے بنائی تو نے یہ کائنات پیاری

    حیران ہو رہی ہے عقل و خرد ہماری

    کلیاں مہک رہی ہیں اعجاز ہے یہ تیرا

    خوشبو کہاں سے آئی اک راز ہے یہ تیرا

    بلبل کے چہچہوں نے حیران کر دیا ہے

    انساں کے قہقہوں نے حیران کر دیا ہے

    ششدر ہوں دیکھ کے میں اڑتے ہیں کیسے پنچھی

    دریا میں دیکھتا ہوں جاتے ہیں کیسے مانجھی

    کس طرح بے ستوں یہ تو نے فلک بنایا

    آنچل کو تو نے اس کے باروں سے جگمگایا

    کس طرح کی ہیں پیدا برسات کی گھٹائیں

    کس طرح چل رہی ہیں پر کیف یہ ہوائیں

    دریا پہاڑ جنگل کس طرح بن گئے ہیں

    یہ بات عقل والے ہر وقت سوچتے ہیں

    کس طرح تو نے مولا انسان کو بنایا

    اکثر میں سوچتا ہوں کیسا ہے تو خدایا

    مأخذ:

    (Pg. 29)

    • مصنف: عادل اسیر دہلوی
      • ناشر: ملک بکڈپو، دہلی
      • سن اشاعت: 2008

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے