اپنا اپنا دکھ

شہرام سرمدی

اپنا اپنا دکھ

شہرام سرمدی

MORE BYشہرام سرمدی

    بچپن سے

    اماں سے سنا کرتے تھے

    'پانچوں انگلیاں ایک برابر نہیں ہوتیں'

    لیکن پچھلے کچھ برسوں سے

    اماں منجھلی انگلی کو

    کھینچ رہی ہیں

    کہتی ہیں:

    'اس کو کیسے چھوڑوں

    پیچھے رہ جائے گی'

    منجھلی انگلی بھی تو آخر جانتی ہوگی

    'پانچوں انگلیاں ایک برابر نہیں ہوتیں'

    پیچھے رہ جانے کا دکھ تو منجھلی انگلی سہہ جائے گی

    لیکن چھوٹی انگلی؟

    جسے دبا کر

    اماں منجھلی انگلی کھینچ رہی ہیں

    مآخذ :
    • کتاب : Na Mau'ud (Pg. 99)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY