اپنے دریا کی پیاس

فارغ بخاری

اپنے دریا کی پیاس

فارغ بخاری

MORE BY فارغ بخاری

    صداقتوں کے جنوں کا

    ہم ایسا آئینہ ہیں

    جو اپنے عکسوں کا مان کھو کر

    شکستگی کا عذاب سہنے میں مبتلا ہے

    ہم ایسے طوفاں کا ماجرا ہیں

    جو ٹوٹتے پھوٹتے چٹختے سے

    اپنے اعصاب کے بکھرنے کی آس میں ہیں

    جو تشنہ لب ساحلوں کی مانند

    اپنے دریا کی پیاس میں ہیں

    جو دشت امکان کی ہواؤں کی

    برگزیدہ مگر دریدہ لباس میں ہیں

    مآخذ:

    • کتاب : siip-volume-47 (Pg. 113)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY