اور یہ انساں

مجید امجد

اور یہ انساں

مجید امجد

MORE BY مجید امجد

    اور یہ انساں ۔۔۔جو مٹی کا اک ذرہ ہے۔۔۔ جو مٹی سے بھی کم تر ہے

    اپنے لیے ڈھونڈے تو اس کے سارے شرف سچی تمکینوں میں ہیں

    لیکن کیا یہ تکریمیں ملتی ہیں

    زر کی چمک سے

    تہذیبوں کی چھب سے

    سلطنتوں کی دھج سے

    نہیں ۔۔۔نہیں تو۔۔۔

    پھر کیوں مٹی کے اس ذرے کو سجدہ کیا اک اک طاقت نے

    کیا اس کی رفعت ہی کی یہ سب تسخیریں ہیں

    میں بتلا دوں

    کیا اس کی قوت اور کیسی اس کی تسخیریں

    میں بتلا دوں

    قاہر جذبوں کے آگے بے بس ہونے میں مٹی کا یہ ذرہ

    اپنے آپ میں

    جب مٹی سے بھی کم تر ہو جاتا ہے سننے والا اس کی سنتا ہے

    سننے والا جس کی سنے وہ تو اپنے مٹی ہونے میں بھی انمول ہے

    مآخذ:

    • Book: Kulliyaat-e-majiid Amjad (Pg. 671)
    • Author: Majiid Amjad
    • مطبع: Farid Book Depot (p) Ltd. (2011)
    • اشاعت: 2011

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites