عورت نامہ

ماہم شاہ

عورت نامہ

ماہم شاہ

MORE BYماہم شاہ

    کس کی آرزو تھی میں

    کس کی ہو گئی ہوں میں

    کہ خود کو بھی نہیں ملتی

    کہیں تو کھو گئی ہوں میں

    یہی تھی چاہتی کہنا

    کچھ اور ہی کہہ گئی ہوں میں

    فرائض تیرے پرچے میں

    صف اول رہی ہوں میں

    رہین عاشقی ہوں میں

    مسلسل ٹکڑوں میں جی کر

    مسلسل مر رہی ہوں میں

    ہے سب سے اتفاق اپنا

    کہ خود سے لڑ رہی ہوں میں

    یہ عزت بوجھ ہے شاید

    جہاں پر دب گئی ہوں میں

    ہر اک شب جاگتے گزری

    کہ سونے کب گئی ہوں میں

    سدا تہذیب بھی ہوں میں

    سدا تحریک بھی ہوں میں

    کبھی تو غور تو کر لے

    کہیں تفریق بھی ہوں میں

    کبھی بیزار بھی ہوں میں

    کبھی غم خوار بھی ہوں میں

    اگر کچھ وقت پڑ جائے

    سنو تلوار بھی ہوں میں

    کھڑی ہے جو کہ طوفاں میں

    وہی چٹان بھی ہوں میں

    مکمل ایک نازک سا

    کوئی گلدان بھی ہوں میں

    اے ابن آدم داور

    خیال بنت حوا کر

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY