باز آمد ۔۔۔ ایک منتاج

اختر الایمان

باز آمد ۔۔۔ ایک منتاج

اختر الایمان

MORE BY اختر الایمان

    تتلیاں ناچتی ہیں

    پھول سے پھول پہ یوں جاتی ہیں

    جیسے اک بات ہے جو

    کان میں کہنی ہے خاموشی سے

    اور ہر پھول ہنسا پڑتا ہے سن کر یہ بات

    دھوپ میں تیزی نہیں

    ایسے آتا ہے ہر اک جھونکا ہوا کا جیسے

    دست شفقت ہے بڑی عمر کی محبوبہ کا

    اور مرے شانوں کو اس طرح ہلا جاتا ہے

    جیسے میں نیند میں ہوں

    عورتیں چرخے لیے بیٹھی ہیں

    کچھ کپاس اوٹتی ہیں

    کچھ سلائی کے کسی کام میں مصروف ہیں یوں

    جیسے یہ کام ہے دراصل ہر اک شے کی اساس

    ایک سے ایک چہل کرتی ہے

    کوئی کہتی ہے مری چوڑیاں کھنکیں تو کھنکھاری مری ساس

    کوئی کہتی ہے بھری چاندنی آتی نہیں راس

    رات کی بات سناتی ہے کوئی ہنس ہنس کر

    بات کی بات سناتی ہے کوئی ہنس ہنس کر

    لذت وصل ہے آزار، کوئی کہتی ہے

    میں تو بن جاتی ہوں بیمار، کوئی کہتی ہے

    میں بھی گھس آتا ہوں اس شیش محل میں دیکھو

    سب ہنسی روک کے کہتی ہیں نکالو اس کو

    اک پرندہ کسی اک پیڑ کی ٹہنی پہ چہکتا ہے کہیں

    ایک گاتا ہوا یوں جاتا ہے دھرتی سے فلک کی جانب

    پوری قوت سے کوئی گیند اچھالے جیسے

    اک پھدکتا ہے سر شاخ پہ جس طرح کوئی

    آمد فصل بہاری کی خوشی میں ناچے

    گوندنی بوجھ سے اپنے ہی جھکی پڑتی ہے

    نازنیں جیسے ہے کوئی یہ بھری محفل میں

    اور کل ہاتھ ہوئے ہیں پیلے

    کوئلیں کوکتی ہیں

    جامنیں پکی ہیں، آموں پہ بہار آئی ہے

    ارغنوں بجتا ہے یکجائی کا

    نیم کے پیڑوں میں جھولے ہیں جدھر دیکھو ادھر

    ساونی گاتی ہیں سب لڑکیاں آواز ملا کر ہر سو

    اور اس آواز سے گونج اٹھی ہے بستی ساری

    میں کبھی ایک کبھی دوسرے جھولے کے قریں جاتا ہوں

    ایک ہی کم ہے، وہی چہرہ نہیں

    آخرش پوچھ ہی لیتا ہوں کسی سے بڑھ کر

    کیوں حبیبہ نہیں آئی اب تک؟

    کھلکھلا پڑتی ہیں سب لڑکیاں سن کر یہ نام

    لو یہ سپنے میں ہیں، اک کہتی ہے

    باؤلی سپنا نہیں، شہر سے آئے ہیں ابھی

    دوسری ٹوکتی ہے

    بات سے بات نکل چلتی ہے

    ٹھاٹ کی آئی تھی بارات، چنبیلی نے کہا

    بینڈ باجا بھی تھا، دیپا بولی

    اور دلہن پہ ہوا کتنا بکھیر

    کچھ نہ کچھ کہتی رہیں سب ہی مگر میں نے صرف

    اتنا پوچھا وہ ندی بہتی ہے اب بھی، کہ نہیں

    جس سے وابستہ ہیں ہم اور یہ بستی ساری؟

    کیوں نہیں بہتی، چنبیلی نے کہا

    اور وہ برگد کا گھنا پیڑ کنارے اس کے؟

    وہ بھی قائم ہے ابھی تک یونہی

    وعدہ کر کے جو حبیبہؔ نہیں آتی تھی کبھی

    آنکھیں دھوتا تھا ندی میں جاکر

    اور برگد کی گھنی چھاؤں میں سو جاتا تھا

    ماہ و سال آتے، چلے جاتے ہیں

    فصل پک جاتی ہے، کٹ جاتی ہے

    کوئی روتا نہیں اس موقع پر

    حلقہ در حلقہ نہ آہن کو تپا کر ڈھالیں

    کوئی زنجیر نہ ہو!

    زیست در زیست کا یہ سلسلہ باقی نہ رہے!

    بھیڑ ہے بچوں کی چھوٹی سی گلی میں دیکھو

    ایک نے گیند جو پھینکی تو لگی آ کے مجھے

    میں نے جا پکڑا اسے، دیکھی ہوئی صورت تھی

    کس کا ہے میں نے کسی سے پوچھا؟

    یہ حبیبہ کا ہے، رمضانی قصائی بولا

    بھولی صورت پہ ہنسی آ گئی اس کی مجھ کو

    وہ بھی ہنسنے لگا، ہم دونوں یونہی ہنستے رہے!

    دیر تک ہنستے رہے!

    تتلیاں ناچتی ہیں

    پھول سے پھول پہ یوں جاتی ہیں

    جیسے اک بات ہے جو

    کان میں کہنی ہے خاموشی سے

    اور ہر پھول ہنسا پڑتا ہے سن کر یہ بات!

    RECITATIONS

    اختر الایمان

    اختر الایمان

    اختر الایمان

    باز آمد ۔۔۔ ایک منتاج اختر الایمان

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY