بدلنے کا کوئی موسم نہیں ہوتا

عین تابش

بدلنے کا کوئی موسم نہیں ہوتا

عین تابش

MORE BYعین تابش

    چلے تھے لوگ جب گھر سے

    تو اک وعدے کی تختی اپنی پیشانی پر

    رکھ کر لائے تھے

    جس کی گواہی میں

    سفر کو آگے بڑھنا تھا

    اور اس کے ساتھ

    خوابوں خواہشوں کے نام

    اس ویران گھر کو آگے بڑھنا تھا

    تو اک وعدے کی تختی تھی

    بہت دن تک جو روشن تھی سرابوں میں

    پرانی داستانیں جاگتی تازہ نصابوں میں

    بہت دن تک ہوا میں صندلی خوشبو مہکتی تھی

    سفر میں چاندنی گھر کی چھٹکتی تھی

    چلے تھے لوگ جب گھر سے

    بہت مانوس تھے

    ہر گمشدہ ویران منظر سے

    چلے تھے لوگ جب گھر سے

    پرانی بات لگتی ہے

    بہت سی کڑیاں جیسے بیچ سے

    اب ٹوٹتی جاتی ہیں

    رتیں گزریں ہوئی اب ہاتھ سے

    یوں چھوٹتی جاتی ہیں

    جیسے آیتیں بجھنے لگی ہوں

    سیل ظلمت میں

    وہ اک وعدے کی تختی گم ہوئی

    طوفان حیرت میں

    بدلنے کا کوئی موسم نہیں ہوتا

    بہت دن جب بدلنے میں گزر جاتے ہیں

    کچھ بدلے ہوئے کا غم نہیں ہوتا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    عین تابش

    عین تابش

    RECITATIONS

    عین تابش

    عین تابش

    عین تابش

    بدلنے کا کوئی موسم نہیں ہوتا عین تابش

    مأخذ :
    • کتاب : dasht ajab hairanii ka shayar (Pg. 43)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY