بیوہ کی خود کشی

کیفی اعظمی

بیوہ کی خود کشی

کیفی اعظمی

MORE BYکیفی اعظمی

    یہ اندھیری رات یہ ساری فضا سوئی ہوئی

    پتی پتی منظر خاموش میں کھوئی ہوئی

    موجزن ہے بحر ظلمت تیرگی کا جوش ہے

    شام ہی سے آج قندیل فلک خاموش ہے

    چند تارے ہیں بھی تو بے نور پتھرائے ہوئے

    جیسے باسی ہار میں ہوں پھول کمہلائے ہوئے

    کھپ گیا ہے یوں گھٹا میں چاندنی کا صاف رنگ

    جس طرح مایوسیوں میں دب کے رہ جائے امنگ

    امڈی ہے کالی گھٹا دنیا ڈبونے کے لئے

    یا چلی ہے بال کھولے رانڈ رونے کے لئے

    جتنی ہے گنجان بستی اتنی ہی ویران ہے

    ہر گلی خاموش ہے ہر راستہ سنسان ہے

    اک مکاں سے بھی مکیں کی کچھ خبر ملتی نہیں

    چلمنیں اٹھتی نہیں زنجیر در ہلتی نہیں

    سو رہے ہیں مست و بے خود گھر کے کل پیر و جواں

    ہو گئی ہیں بند حسن و عشق میں سرگوشیاں

    ہاں مگر اک سمت اک گوشے میں کوئی نوحہ گر

    لے رہی ہے کروٹوں پر کروٹیں دل تھام کر

    دل سنبھلتا ہی نہیں ہے سینۂ صد چاک میں

    پھول سا چہرہ اٹا ہے بیوگی کی خاک میں

    اڑ چلی ہے رنگ رخ بن کر حیات مستعار

    ہو رہا ہے قلب مردہ میں جوانی کا فشار

    حسرتیں دم توڑتی ہیں یاس کی آغوش میں

    سیکڑوں شکوے مچلتے ہیں لب خاموش میں

    عمر آمادہ نہیں مردہ پرستی کے لئے

    بار ہے یہ زندہ میت دوش ہستی کے لئے

    چاہتی ہے لاکھ قابو دل پہ پاتی ہی نہیں

    ہائے رے ظالم جوانی بس میں آتی ہی نہیں

    تھرتھرا کر گرتی ہے جب سونے بستر پر نظر

    لے کے اک کروٹ پٹک دیتی ہے وہ تکیہ پہ سر

    جب کھنک اٹھتی ہیں سوتی لڑکیوں کی چوڑیاں

    آہ بن کر اٹھنے لگتا ہے کلیجہ سے دھواں

    ہو گئی بیوہ کی خاطر نیند بھی جیسے حرام

    مختصر سا عہد وصلت دے گیا سوز دوام

    دوپہر کی چھاؤں دور شادمانی ہو گیا

    پیاس بھی بجھنے نہ پائی ختم پانی ہو گیا

    لے رہی ہے کروٹوں پر کروٹیں با اضطرار

    آگ میں پارہ ہے یا بستر پہ جسم بے قرار

    پڑ گئی اک آہ کر کے رو کے اٹھ بیٹھی کبھی

    انگلیوں میں لے کے زلف خم بہ خم اینٹھی کبھی

    آ کے ہونٹوں پر کبھی مایوس آہیں تھم گئیں

    اور کبھی سونی کلائی پر نگاہیں جم گئیں

    اتنی دنیا میں کہیں اپنی جگہ پاتی نہیں

    یاس اس حد کی کہ شوہر کی بھی یاد آتی نہیں

    آ رہے ہیں یاد پیہم ساس نندوں کے سلوک

    پھٹ رہا ہے غم سے سینہ اٹھ رہی ہے دل میں ہوک

    اپنی ماں بہنوں کا بھی آنکھیں چرانا یاد ہے

    ایسی دنیا میں کسی کا چھوڑ جانا یاد ہے

    باغباں تو قبر میں ہے کون اب دیکھے بہار

    خود اسی کو تیر اس کے کرنے والے ہیں شکار

    جب نظر آتا نہیں دیتا کوئی بیکس کا ساتھ

    زہر کی شیشی کی جانب خودبخود بڑھتا ہے ہاتھ

    دل تڑپ کر کہہ رہا ہے جلد اس دنیا کو چھوڑ

    چوڑیاں توڑیں تو پھر زنجیر ہستی کو بھی توڑ

    دم اگر نکلا تو کھوئی زندگی مل جائے گی

    یہ نہیں تو خیر تنہا قبر ہی مل جائے گی

    واں تجھے ذلت کی نظروں سے نہ دیکھے گا کوئی

    چاہے ہنسنا چاہے رونا پھر نہ روکے گا کوئی

    واں سب اہل درد ہیں سب صاحب انصاف ہیں

    رہبر آگے جا چکا راہیں بھی تیری صاف ہیں

    دل انہیں باتوں میں الجھا تھا کہ دم گھبرا گیا

    ہاتھ لے کر زہر کی شیشی لبوں تک آ گیا

    تلملاتی آنکھ جھپکاتی جھجکتی ہانپتی

    پی گئی کل زہر آخر تھرتھراتی کانپتی

    موت نے جھٹکا دیا کل عضو ڈھیلے ہو گئے

    سانس اکھڑی، نبض ڈوبی، ہونٹ نیلے ہو گئے

    آنکھ جھپکی اشک ٹپکا ہچکی آئی کھو گئی

    موت کی آغوش میں اک آہ بھر کر سو گئی

    اور کر اک آہ سلگے ہند کی رسموں کا دام

    اے جوانا مرگ بیوہ تجھ پہ کیفیؔ کا سلام

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY