بیوی کی اچانک وفات پر
وفاؤں کے ابھی بندھن نبھانے کی ضرورت تھی
محبت کے چمن میں گیت گانے کی ضرورت تھی
ابھی تو آرزؤں کے کنول کھلنے تھے وارفتہ
جہان آب و گل میں مسکرانے کی ضرورت تھی
ابھی تو رت جگے دل کی امیدوں کے جگانے تھے
خوشی کے ہاتھ سے مہندی لگانے کی ضرورت تھی
ابھی تو کم سنوں کی قسمتوں کے آئنہ خانے
تمہارے ہاتھ سے دلکش بنانے کی ضرورت تھی
ابھی تو نیکیوں کے سینچ کر نخل تر و تازہ
ابھی صحن سعادت میں لگانے کی ضرورت تھی
ابھی تو زندگی کی منزلوں میں کارواں چلتے
ابھی تو منزلوں میں ساتھ جانے کی ضرورت تھی
محبت کے گلستاں میں وفا کے بیل بوٹوں کو
نگارستان دنیا میں سجانے کی ضرورت تھی
شب آخر تو مل کے ہم نے تھا عہد وفا باندھا
در اقدس مقدر آزمانے کی ضرورت تھی
اچانک ہو گئی آباد تو شہر خموشاں میں
ابھی تو زیست کا مسکن بسانے کی ضرورت تھی
محبت سے بہت گزری ہماری زندگی لیکن
ابھی تو زندگی مل کر نبھانے کی ضرورت تھی
ہماری بد نصیبی ہے کہ تم نے موند لیں آنکھیں
نگاہوں سے ابھی ساغر پلانے کی ضرورت تھی
جدائی نے مری مجھ کو انوکھی تلخیاں بخشیں
مجھے تو تلخیاں پہلی بھلانے کی ضرورت تھی
دیار شوق کے ظلمت کدوں میں گھپ اندھیرا ہے
محبت کی ابھی شمعیں جلانے کی ضرورت تھی
محبت سادگی صبر و قناعت تھے ترے زیور
یہی زیور اقارب کو دکھانے کی ضرورت تھی
نہ شوکت سے تعلق تھا نہ دولت کی تجھے خواہش
حضور عشق میں سر کو جھکانے کی ضرورت تھی
قیامت سے نہیں ہے کم اچانک یوں بچھڑ جانا
ابھی احوال خود بیتی سنانے کی ضرورت تھی
بنانے تھے ابھی ہم نے تمناؤں کے مینارے
رفاقت کے جزیروں کو بسانے کی ضرورت تھی
خدا کے بعد بندوں میں یہی ہے مدعا مقصد
فقط عیش حزیں سے داد پانے کی ضرورت تھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.