بس سٹینڈ پر

مجید امجد

بس سٹینڈ پر

مجید امجد

MORE BY مجید امجد

    خدایا اب کے یہ کیسی بہار آئی

    خدا سے کیا گلہ بھائی

    خدا تو خیر کس نے اس کا عکس نقش پا دیکھا

    نہ دیکھا تو بھی دیکھا اور دیکھا بھی تو کیا دیکھا

    مگر توبہ مری توبہ یہ انساں بھی تو آخر اک تماشا ہے

    یہ جس نے پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہونا بڑے جتنوں سے سیکھا ہے

    ابھی کل تک جب اس کے ابروؤں تک موئے پیچاں تھے

    ابھی کل تک جب اس کے ہونٹ محروم زنخداں تھے

    ردائے صد زماں اوڑھے لرزتا کانپتا بیٹھا

    ضمیر سنگ سے بس ایک چنگاری کا طالب تھا

    مگر اب تو یہ اونچی ممٹیوں والے جلو خانوں میں بستہ ہے

    ہمارے ہی لبوں سے مسکراہٹ چھین کر اب ہم پہ ہنستا ہے

    خدا اس کا خدائی اس کی ہر شے اس کی ہم کیا ہیں

    چمکتی موٹروں سے اڑنے والی دھول کا ناچیز ذرہ ہیں

    ہماری ہی طرح جو پائمال سطوت میری و شاہی میں

    لکھوکھا آب دیدہ پا پیادہ دل زدہ واماندہ راہی ہیں

    جنہیں نظروں سے گم ہوتے ہوئے رستوں کی گم پیما لکیروں میں

    دکھائی دے رہی ہیں آنے والی منزلوں کی دھندلی تصویریں

    ضرور اک روز بدلے گا نظام قسمت آدم

    بسے گی اک نئی دنیا سجے گا اک نیا عالم

    شبستاں میں نئی شمعیں گلستاں میں نیا موسم

    وہ رت اے ہم نفس جانے کب آئے گی

    وہ فصل دیر رس جانے کب آئے گی

    یہ نو نمبر کی بس جانے کب آئے گی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites