دوری

ن م راشد

دوری

ن م راشد

MORE BYن م راشد

    مجھے موت آئے گی، مر جاؤں گا میں،

    تجھے موت آئے گی، مر جائے گی تو،

    وہ پہلی شب مہ شب ماہ دونیم بن جائے گی

    جس طرح ساز کہنہ کے تار شکستہ کے دونوں سرے

    دور افق کے کناروں کے مانند

    بس دور ہی دور سے تھرتھراتے ہیں اور پاس آتے نہیں ہیں

    نہ وہ راز کی بات ہونٹوں پہ لاتے ہیں

    جس نے مغنی کو دور زماں و مکاں سے نکالا تھا،

    بخشی تھی خواب ابد سے رہائی!

    یہ سچ ہے تو پھر کیوں

    کوئی ایسی صورت، کوئی ایسا حیلہ نہ تھا

    جس سے ہم آنے والے زمانے کی آہٹ کو سن کر

    وہیں اس کی یورش کو سپنوں پہ یوں روک لیتے

    کہ ہم تیری منزل نہیں، تیرا ملجا و ماویٰ نہیں ہیں؟

    یہ سوچا تھا شاید

    کہ خود پہلے اس بعد کے آفرینندہ بن جائیں گے

    اب جو اک بحر خمیازہ کش بن گیا ہے!

    تو پھر از سر نو مسرت سے، نو رس نئی فاتحانہ مسرت سے

    پائیں گے بھولی ہوئی زندگی کو

    وہی خود فریبی، وہی اشک شوئی کا ادنیٰ بہانہ!

    مگر اب وہی بعد سرگوشیاں کر رہا ہے

    کہ تو اپنی منزل کو واپس نہیں جا سکے گا،

    نہیں جا سکے گا

    مجھے موت آئے گی، مر جاؤں گا میں،

    تجھے موت آئے گی، مر جاؤں گا میں،

    تجھے موت آئے گی، مر جائے گی تو

    یہ عفریت پہلے ہزیمت اٹھائے گا، مٹ جائے گا!

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    دوری نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY