آدمی کی تلاش

ندا فاضلی

آدمی کی تلاش

ندا فاضلی

MORE BYندا فاضلی

    ابھی مرا نہیں زندہ ہے آدمی شاید

    یہیں کہیں اسے ڈھونڈو یہیں کہیں ہوگا

    بدن کی اندھی گپھا میں چھپا ہوا ہوگا

    بڑھا کے ہاتھ

    ہر اک روشنی کو گل کر دو

    ہوائیں تیز ہیں جھنڈے لپیٹ کر رکھ دو

    جو ہو سکے تو ان آنکھوں پہ پٹیاں کس دو

    نہ کوئی پاؤں کی آہٹ

    نہ سانسوں کی آواز

    ڈرا ہوا ہے وہ

    کچھ اور بھی نہ ڈر جائے

    بدن کی اندھی گپھا سے نہ کوچ کر جائے

    یہیں کہیں اسے ڈھونڈو

    وہ آج صدیوں بعد

    اداس اداس ہے

    خاموش ہے

    اکیلا ہے

    نہ جانے کب کوئی پسلی پھڑک اٹھے اس کی

    یہیں کہیں اسے ڈھونڈو یہیں کہیں ہوگا

    برہنہ ہو تو اسے پھر لباس پہنا دو

    اندھیری آنکھوں میں سورج کی آگ دہکا دو

    بہت بڑی ہے یہ بستی کہیں بھی دفنا دو

    ابھی مرا نہیں

    زندہ ہے آدمی شاید

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    Aadmi ki talash - Nida Fazli نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY