چور دروازہ کھلا رہتا ہے

زاہد امروز

چور دروازہ کھلا رہتا ہے

زاہد امروز

MORE BY زاہد امروز

    میرے خواب زخمی ہوئے

    تو دنیا کے سارے ضابطے جھوٹے لگے

    میں نے زندگی کے لیے بھیک مانگی

    مگر آباد لمحوں کی پوجا کے لیے

    وقت کبھی میرے لیے نہ رکا

    مجھے ویسٹ پن سے اپنائیت محسوس ہوئی

    لوگ کاغذوں سے بنے کھلونے تھے

    جنہیں ہمیشہ خلاف مرضی ناچنا پڑا

    بھیگے ساحلوں کی ہوا میں خون ہی خون تھا

    جھیلوں کے آباد کنارے مجھے بنجر کر گئے

    پانی پر تیرتا منظر دغاباز نکلا

    میں مخالف سمت بہتی کشتیوں میں

    بہ یک وقت سوار ہو گیا

    بادل برس گئے

    تو آسمان پر دھواں رہ گیا

    میں نے خود کو دھویں میں اڑایا

    اور مصروفیت سے سودا کر لیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites