اعتراف

MORE BYاسرار الحق مجاز

    اب مرے پاس تم آئی ہو تو کیا آئی ہو

    میں نے مانا کہ تم اک پیکر رعنائی ہو

    چمن دہر میں روح چمن آرائی ہو

    طلعت مہر ہو فردوس کی برنائی ہو

    بنت مہتاب ہو گردوں سے اتر آئی ہو

    مجھ سے ملنے میں اب اندیشۂ رسوائی ہے

    میں نے خود اپنے کیے کی یہ سزا پائی ہے

    خاک میں آہ ملائی ہے جوانی میں نے

    شعلہ زاروں میں جلائی ہے جوانی میں نے

    شہر خوباں میں گنوائی ہے جوانی میں نے

    خواب گاہوں میں جگائی ہے جوانی میں نے

    حسن نے جب بھی عنایت کی نظر ڈالی ہے

    میرے پیمان محبت نے سپر ڈالی ہے

    ان دنوں مجھ پہ قیامت کا جنوں طاری تھا

    سر پہ سرشارئ عشرت کا جنوں طاری تھا

    ماہ پاروں سے محبت کا جنوں طاری تھا

    شہریاروں سے رقابت کا جنوں طاری تھا

    بستر مخمل و سنجاب تھی دنیا میری

    ایک رنگین و حسیں خواب تھی دنیا میری

    جنت شوق تھی بیگانہ آفات سموم

    درد جب درد نہ ہو کاوش درماں معلوم

    خاک تھے دیدۂ بیباک میں گردوں کے نجوم

    بزم پرویں تھی نگاہوں میں کنیزوں کا ہجوم

    لیلیٰ ناز برافگندہ نقاب آتی تھی

    اپنی آنکھوں میں لیے دعوت خواب آتی تھی

    سنگ کو گوہر نایاب و گراں جانا تھا

    دشت پر خار کو فردوس جواں جانا تھا

    ریگ کو سلسلۂ آب رواں جانا تھا

    آہ یہ راز ابھی میں نے کہاں جانا تھا

    میری ہر فتح میں ہے ایک ہزیمت پنہاں

    ہر مسرت میں ہے راز غم و حسرت پنہاں

    کیا سنوگی مری مجروح جوانی کی پکار

    میری فریاد جگر دوز مرا نالۂ زار

    شدت کرب میں ڈوبی ہوئی میری گفتار

    میں کہ خود اپنے مذاق طرب آگیں کا شکار

    وہ گداز دل مرحوم کہاں سے لاؤں

    اب میں وہ جذبۂ معصوم کہاں سے لاؤں

    میرے سائے سے ڈرو تم مری قربت سے ڈرو

    اپنی جرأت کی قسم اب میری جرأت سے ڈرو

    تم لطافت ہو اگر میری لطافت سے ڈرو

    میرے وعدوں سے ڈرو میری محبت سے ڈرو

    اب میں الطاف و عنایت کا سزا وار نہیں

    میں وفادار نہیں ہاں میں وفادار نہیں

    اب مرے پاس تم آئی ہو تو کیا آئی ہو

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    اعتراف نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY