دستک

گلزار

دستک

گلزار

MORE BY گلزار

    صبح صبح اک خواب کی دستک پر دروازہ کھولا' دیکھا

    سرحد کے اس پار سے کچھ مہمان آئے ہیں

    آنکھوں سے مانوس تھے سارے

    چہرے سارے سنے سنائے

    پاؤں دھوئے، ہاتھ دھلائے

    آنگن میں آسن لگوائے

    اور تنور پہ مکی کے کچھ موٹے موٹے روٹ پکائے

    پوٹلی میں مہمان مرے

    پچھلے سالوں کی فصلوں کا گڑ لائے تھے

    آنکھ کھلی تو دیکھا گھر میں کوئی نہیں تھا

    ہاتھ لگا کر دیکھا تو تنور ابھی تک بجھا نہیں تھا

    اور ہونٹوں پر میٹھے گڑ کا ذائقہ اب تک چپک رہا تھا

    خواب تھا شاید!

    خواب ہی ہوگا!!

    سرحد پر کل رات، سنا ہے ،چلی تھی گولی

    سرحد پر کل رات، سنا ہے

    کچھ خوابوں کا خون ہوا تھا!

    RECITATIONS

    فہد حسین

    فہد حسین

    فہد حسین

    دستک فہد حسین

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY