ہم اضافی مٹی سے بنے

زاہد امروز

ہم اضافی مٹی سے بنے

زاہد امروز

MORE BYزاہد امروز

    روشنی قتل ہوئی

    تو جسم خالی ہو گئے

    زندگی کا غبار ہی ہمارا حاصل ہے

    ہم نے پرائے گھروں کی راج گیری کی

    اور اپنی چھت کے خواب دیکھے

    ہمیں کب معلوم تھا

    سوئی دکانوں کی سیڑھیاں ہمارا تکیہ ہیں

    ہمارے نام اضافی مٹی پر لکھے گئے

    اور ہم فقط لوگوں کو دہراتے رہے

    ہم بے احتیاط لمحوں کا قصاص نہیں تھے

    ہم حلال کے تھے

    مگر بے گھر پیدا ہوئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY