ہم کسی سے پوچھے بغیر زندہ رہتے ہیں

افضال احمد سید

ہم کسی سے پوچھے بغیر زندہ رہتے ہیں

افضال احمد سید

MORE BYافضال احمد سید

    خنجر کے پھل پر

    ایک طرف تمہارا نام لکھا ہے

    اور دوسری طرف میرا

    جنہیں پڑھنا آتا ہے

    ہمیں بتاتے ہیں

    ہمیں قتل کر دیا جائے گا

    جو درخت اگاتا ہے

    ہمیں ایک سیب دے دیتا ہے

    ہم خنجر سے سیب کے

    دو ٹکڑے کر دیتے ہیں

    ہم کسی سے پوچھے بغیر زندہ رہتے ہیں

    اور کسی کو بتائے بغیر

    محبت کرتے ہیں

    میں نے گنتی سیکھی

    اور یاد رکھا

    تم تک پہنچنے کے لئے مجھے

    کتنی سیڑھیاں طے کرنی پڑتی ہیں

    ایک دن تم یہ ساری سیڑھیاں

    نظموں کی کتاب میں رکھ کر

    مجھے دے دو گی

    ایک دن میں تمہیں بتاؤں گا

    سمندر وہاں سے شروع ہوتا ہے

    جہاں سے خشکی نظر آنی ختم ہو جائے

    پھر ہم جب چاہیں گے

    نظموں کی کتاب سے

    ایک ورق پھاڑ کر کشتی بنا لیں گے

    اور

    دوسرا ورق پھاڑ کر

    سمندر

    پھر ہم جب چاہیں گے

    زمین کی گردش روک کر

    رقص کرنے لگیں گے

    ناچتے ہوئے آدمی کے دل کا نشانہ

    مشکل سے لیا جا سکتا ہے

    مآخذ:

    • کتاب : AN EVENING OF CAGED BEASTS (Pg. 32)
    • Author : Asif Farrukhi
    • مطبع : Ameena Saiyid, Oxford University (1999)
    • اشاعت : 1999

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY