ہر جانب ہیں

مجید امجد

ہر جانب ہیں

مجید امجد

MORE BY مجید امجد

    ہر جانب ہیں دلوں ضمیروں میں کالے طوفانوں والے لفظ ہزاروں گھنی بھوؤں کے نیچے

    گھات میں

    اب تو میرے لبوں تک آ بھی حرف زندہ

    ہر جانب گلیوں کے دلدلی تالابوں میں بے ستر ہراساں کھڑی ہیں روحیں

    قدم کھبے ہیں نیلے کیچڑ میں اور ان کی ڈوبتی نظروں میں اک بار ذرا تیری تھی ان کی زندگی

    ابھی ابھی اک پل کو

    اور اب پھر کالے طوفاں والے لفظ ان کے لیے جانے کیا کیا سندیسے لائے ہیں

    ان کو زندہ رکھیو حرف زندہ

    مدتوں سے بے یاد ہے تو میرے نسیانوں میں اے حرف زندہ

    اب تو میرے لبوں پر آ بھی

    اب جب میرے دیکھتے دیکھتے کالے طوفاں والے لفظوں کا آبی فرش

    اک

    بچھ بچھ گیا ہے دور افق کے پیچھے کہیں ان پانیوں تک جن پر اک ناخدا پیغمبر کی دعاؤں

    کے بجرے تیرے تھے

    میرے نسیانوں میں جہندہ حرف زندہ

    تیرے معنوں میں مواج ہیں وہ سب علم جو روحوں کو کھیتے ہیں اس اک گھاٹ کی سمت

    جہاں امید اور خوف کے ڈانڈے مل جاتے ہیں

    اب تو ساری دنیا میں سے جس اک شخص کو ڈوبنا ہے وہ میں ہوں

    اب تو ساری دنیا میں وہ شخص جو تیر کے بچ نکلے گا میں ہوں

    مآخذ:

    • Book: Kulliyaat-e-majiid Amjad (Pg. 707)
    • Author: Majiid Amjad
    • مطبع: Farid Book Depot (p) Ltd. (2011)
    • اشاعت: 2011

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites