مہمان

MORE BYاسرار الحق مجاز

    آج کی رات اور باقی ہے

    کل تو جانا ہی ہے سفر پہ مجھے

    زندگی منتظر ہے منہ پھاڑے

    زندگی خاک و خون میں لتھڑی

    آنکھ میں شعلہ ہائے تند لیے

    دو گھڑی خود کو شادماں کر لیں

    آج کی رات اور باقی ہے

    چلنے ہی کو ہے اک سموم ابھی

    رقص فرما ہے روح بربادی

    بربریت کے کاروانوں سے

    زلزلے میں ہے سینۂ گیتی

    ذوق پنہاں کو کامراں کر لیں

    آج کی رات اور باقی ہے

    ایک پیمانہ مے سر جوش

    لطف گفتار گرمئی آغوش

    بوسے اس درجہ آتشیں بوسے

    پھونک ڈالیں جو میری کشت ہوش

    روح یخ بستہ ہے تپاں کر لیں

    آج کی رات اور باقی ہے

    ایک دو اور ساغر سرشار

    پھر تو ہونا ہی ہے مجھے ہشیار

    چھیڑنا ہی ہے ساز زیست مجھے

    آگ برسائیں گے لب گفتار

    کچھ طبیعت تو ہم رواں کر لیں

    آج کی رات اور باقی ہے

    پھر کہاں یہ حسیں سہانی رات

    یہ فراغت یہ کیف کے لمحات

    کچھ تو آسودگی ذوق نہاں

    کچھ تو تسکین شورش جذبات

    آج کی رات جاوداں کر لیں

    آج کی رات اور آج کی رات

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyaat-e-Majaz (Pg. 171)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے